ان شہیدوں کی دیت اہلِ کلیسا سے نہ مانگ

معزز قارئین! انسان کبھی کبھار تعجب اور سوچ میں پڑ جاتا ہے جب اُسکی نظر کسی ایسی چیز یا کسی ایسے کام پر پڑتی ہے جو حقیقت میں بعید از استطاعت ہوتی ہے لیکن کچھ ہی پل میں جب یہ انسان اپنا من بنا لیتا ہے اور خود کو سمجھانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے کہ نہیں بھائی  !یہ نیک اور اچھا کام تو تم سے بھی ہوسکتا ہے، تم بھی معاشرے میں فلاح و بہبودی کے کام کرسکتے ہو، تم سے بھی یہ مفلوک الحال عوام کوئی توقع رکھ سکتی ہیں کیونکہ تم بھی اُنکے درد کا ازالہ کرسکتے ہو،تم بھی کم از کم ایک بچے کی پڑھائی کا خرچہ اُٹھا سکتے ہو اور اُسکی زندگی سنوار سکتے ہو، وغیرہ وغیرہ  ـ یہ سب خیالات اگر اُپ کے قلب و ذہن کو جھنجھوڑے تو سمجھنا آپ کے اندر ضمیر ابھی بھی زندہ ہے جو تمہیں خوابِ غفلت سے اُٹھا کر رفاعِ عامہ(Social Service) کے کاموں میں لگ جانے کے اشارے دے رہا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے سوجانے سے یہ ذمہ داری غیروں کو سونپی جائے یا خود غیر اس کام کے کرنے میں تن،من اور دھن سے لگ جائیں ،جسکا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اسلام کے ماننے والے غریب اور مفلوک الحال (Downtrodden)عوام اپنی روزی روٹی کیلئے کہیں اپنے دین سے نہ پھر جائیں ، جسکی سزا بھی کل آخرت کے دن تمہیں کو نہ بھگتنی پڑے  اور معاذ اللہ آپ کے اسلام کے بارے میں بڑے بڑے دعوے شاید جھاگ کی طرح بے وزن نہ ہوجائیں ،لوگ آپ کو دیکھ کر اپنا راستہ بدل دینے پر مجبور  نہ ہوجائیں ، ایسی صورت نہ ہوجائیں کہ آپ کی کسی بھی بات کا اب اُنکی زندگیوں پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا اور آپ خود کو کوسنے لگو گے کہ ہاے افسوس!  میں نے معاشرے میں ضرورت مند عوام کی پریشانوں کو دور کرنے میں کیوں کوئی جدوجہد(strive) اور کوشش نہیں کیں ـ  کتنی ہی مائیں ہیں جو اپنے لختِ جگر اپنی آنکھوں کے سامنے کھو چکے ہیں، انکے صبر و جمیل کی اللہ سے آپ دُعا بھی کرتے ہیں، لیکن کیا تم نے کبھی خود کو اُنکا بیٹا سمجھ کر اُنکی گھریلو ضروریات(Food,Clothing and Shelter) کو پورا کرنے کی کوشش بھی کیں؟؟؟  کتنی ہی بہنیں ہیں جو اپنے بھائیوں کو تڑپ تڑپ کر شہید ہوتے ہوئے دیکھ چکیں ہیں،وہ اب بھی اپنے بھائیوں سے مدد کو ترس رہی ہیں،تو نے تعزیتی مجالس کے مسلسل تین روز تک خوب دعوے کیے لیکن کیا کبھی اُسکے بعد اُنکے گھر میں اپنا قدم رکھا اور اُنھیں سہارہ (Support)بننے کی کبھی تگ و دو کی ہے؟؟؟ کتنے ہی بچے، نوجوان ، بزرگ مرد و خواتین حضرات پیلٹ(Pellet )کے لگ جانے کی وجہ سے اپنی آنکھوں کی بصارت کھو چکے ہیں، کیا اُنکے لئے کبھی تو نے کسی طرح کی مدد بھی کیں؟؟؟ کتنے ہی طالبِ علم اب اپنی پڑھائی کو شاید بینائی کے کھو جانے کی وجہ سے مکمّل نہ کر سکیں گے ، اُنکے درد بھرے زخموں کے لئے تمہارے پاس مرہم کرنے کا کوئی ذریعہ ہے ؟؟؟ کتنے ہی مزدور اور تجارت پیشہ افراد نے اپنے اموال کوضائع ہوتے دیکھ لیا،کیا تو نے اُنھیں کبھی کسی قسم کی مدد کیں؟؟؟ اگر آپ کے پاس ان سب سوالوں کا جواب” نہیں ” میں ہے تو مہربانی کرکے خود کو بڑا عالم سمجھ کر مساجد اور مدارس میں اپنے تقاریر سےعوام کی خدمت کرنے کی زحمت نہ کریں ـ اپنے آپ کی اصلاح میں لگ جائیں اور خود کو دھوکے میں نہ رکھیں، کوشش کریں آپ کی زبان سے وہی لفظ نکلے جس پر پہلے آپ خود عمل پیرا ہو اور کہیں آپ کا شمار بھی  لم تقولون ما لا تفعلون کے مخاطبین کی صف میں نہ ہو ــ

اگر آپ نے معاشرے کے ضرورت مند عوام کی خدمت کرنا اپنے لئے عار سمجھا اور غیروں کے سامنے مدد کے لئے اُنکو ہاتھ پھیلانے پر مجبور کیا اور اپنی جانی،مالی اور وقتی قربانیاں دینے والوں کی قربانیوں کا سودہ قلیل قیمت میں وقت کے ظالم حکمران سے وصول کیا تو جان لو کہ تم ہی اصل میں معاشرے کے کمزور طبقہ عوام کے خون کے سودائی اور امن کو زک پہنچانے والے ہیں ـ اللہ اُنکی مدد کے لئے کسی نیک بندے کو ضرور بھیجے گا لیکن تم آخرت کے دن خود کی بھی مدد  نہ کر پاؤگے اور اپنی ذمہ داری کے ساتھ خیانت کرنے کی وجہ سے اللہ کی ناراضگی اور پھٹکار کے مستحق بن جاوگے جوکہ حقیقت میں آپ کی ذلّت و رسوائی کا سخت ترین اور ابدی انجام ہوگا جسکے بعد تمہارا کوئی بھی عمل تمہیں ذرہ برابر بھی فائدہ نہ دے گا ،اور نہ آپ کے سزا میں کسی قسم کی نرمی کرنے کی سفارش کی جائے گی ـ اللہ تبارک و تعالٰی بھی قرآنِ مجید کے سورہ النّساء میں اسی چیز کی طرف ہماری توجہ مبزول کرانا چاہتے ہیں ـ”اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں اور اُن بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا ۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا ۔ اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما ـ”
پُرامن معاشرہ کا قیام یا اس کے لئے تگ و دو کرنے کے لئے اعلیٰ کردار اور اخلاق کی ضرورت پڑتی ہے جو ایک انسان کو اللہ کی دی ہوئی ہدایات یعنی قران و سنّت سے ہی حاصل ہوسکتی ہے ـ یہی وہ واحد راستہ ہے جس کی وجہ سےہی ایک طرف دُنیا میں انسان کے لئے امن وآشتی کی صبحِ نو طلوع ہوگی اور  وہ اپنی زندگی کو خوشی اور مسرت کے ساتھ گزار سکے گا ـ اور دوسری طرف کل یومِ آخرت میں اللہ کے دربار میں سرخ رو ہوسکتا ہے ـ اللہ تعالٰی ہمیں معاشرے کے غریب اور مفلوک الحال عوام کی بالعموم اور ہمارے کل کے لئے اپنا آج قربان کرنے والوں کی بالخصوص خدمت اور اُنکے مشن کی آبیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائیں ـ آمّین

ترمیم

حقوقِ نسواں :ایک تلخ حقیقت

برادرانِ اسلام ، ہم خود کو اسلام کے پیروکار اور طریقہء  شریعت کے علمبردار سمجھتے ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلام نے تہذیب و تمدّن، اخلاق ومعاشرت ، سیاست ومعیشت اور باقی سارے زندگی کے شعبہء  جات کے  جو اصول و ضوابط مقرّر کیے ہیں وہ بے داغ اور افراط و تفریط سے بالکل خالی ہیں، ہم دل سے سمجھتے ہیں کہ اسلام نے کسی پر زور اور زبردستی سے کسی حکم کو لادنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس نے ہر فرد بشر پر اس کی وسعت اور حیثیت کے مطابق ذمہ داریاں عائد کی ہیں اور اس کا مطالبہ بھی لوگوں سے وہیں تک ہے جہاں تک ان میں قوتِ عمل اور صلاحیت ِکارکردگی موجود ہے ـ

لیکن عقیدہ کی اس پختگی کے بعد بھی ہمارے قول و فعل میں جو تضاد پایا جاتا ہے وہ بڑا تعجب خیز اور انتہائی حیرت انگیز ہے ـ ہم اپنے دین کے متعلق ایسا واضح تصوّر رکھنے کے باوجود بھی بہت سے موقعوں پر ہماری نگاہوں کے سامنے اسؤہ رسول صلّی اللہ علیہ وسلم  اور سیرت اصحاب ِ رسول نہیں ہوتے، بلکہ ہماری ایک ایک حرکت سے واضح ہوتا ہے کہ وقت کے سلگتے ہوئے مسائل پر تنقید کرنے کے بجائے ہم گردوپیش کے حالات سے متاثر ہوکر اسلام کی تعلیمات سے الگ اور طریقوں سے دور جا پڑے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا سماج دن بدن کھوکھلا ہوتا جارہا ہے اور پوری انسانیت موت کے دہانے پر آکھڑی ہے ـ۔

ان سب مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ ہماری خواتین کے متعلق ہے جن کی پیدائش پر یہاں نہ قدیم زمانے کے لوگ خوش ہوتے تھے اور نہ اس زمانہ جدید میں ہی خوش ہوتے ہیں ـ  بیوہ عورتیں شوہروں کے ساتھہ چتا میں جلائی جاتی تھیں ـ جو جل کر مرنے سے بچ جاتی تھیں ان کے لئے دنیا تاریک ، بھیانک اور جہنم کی بھٹی سے کم نہیں ہوتی تھی ـ آج کے جدید دور میں عورتوں کے حقوق کی باتیں کی جاتی ہیں، ہر معاملات میں ان کے حقوق گِنوائے جاتے ہیں جو مردوں کے ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہیے کیونکہ آج ہم ترقی یافتہ قوم ہیں، ہمارے فکر ونظر میں وسعت پیدا ہوگئی ہے ـ ہم اکیسویں صدی میں رہنے والوں نے خلاؤں کو بھی فتح کرنا شروع کردیا ہے اور اس لئے عورت کے زائد حقوق دیے جانے کی بات کرنا ہمارے لئے ناگزیر ہےـ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کیا واقعی ہمارے اندر عورتوں کے سلسلے میں وسعت نظر پیدا ہوچکی ہے؟

کیا یہ حقیقت ہے کہ عورتوں کے تعلق سے ایک ترقی یافتہ اور مہذب قوم ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہیں تو اس کا واضح اور دو ٹوک جواب یہ ہے کہ نہیں ایسا بالکل نہیں ہے، بلکہ جہاں تک ہمارے قول کا تعلق ہے وہ نہایت ہی خوشنما ہے مگر عمل کا چہرہ انتہائی بھیانک اور مکروہ ہے ـ قرآن نے عورتوں کی حیثیت کو مردوں کے ہم پایہ اور دوش بدوش رکھا ہے چنانچہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے ـ ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجة واللہ عزیز حکیم ـ البقرة ـ یعنی اور عورتوں کا حق بھی مردوں پر اسی قدر ہے جس قدر مردوں کا حق ہے اور مردوں کا درجہ عورتوں پر کچھ  زیادہ ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔ ـ

اس آیت کی تفسیر میں صاحب کشاف لکھتے ہیں ـ ویجب لھن من الحق علی الرجال مثل الذی یجب لھم علیھن بالمعروف بالوجہ الذی لا ینکر فی الشرع و عادات الناس  ـ یعنی عورتوں کا حق مردوں پر اسی قدر واجب ہے جس قدر خود مردوں کا حق عورتوں پر واجب ہے ـ حق کا یہ وجوب نہ تو شریعت کے خلاف ہو اور نہ لوگوں کی عادت کے ـ اسی طرح قرآن میں  ایک اور جگہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں ـ ھن لباس لکم وانتم لباس لھن ـ البقرة ـ یعنی عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو ـ اگرچہ یہ آیت ایّامِ رمضان سے متعلق ہے لیکن اس میں مردوں اور عورتوں کی حیثیت کو برابر کرکے مساوات اور یکسانیت ظاہر کی گئی ہے ـ مردوں کو عورتوں پر اگر کوئی فضیلت ہے تو محض اس لئے کہ وہ ان کی حاجت روائیوں کے ذمہ دار،  ان کی کفالت کے پابند اور ان کو دیکھ  بھال یا ان کے نان و نفقہ کے کفیل ٹھہرائے گئے ہیں،

ورنہ یہ بات تو کسی طرح قرین قیاس نہیں بن سکتی کہ جب انسانی حیثیت سے نظامِ عالم کا بارِ گراں ان دونوں کی شخصیتوں سے متعلق ہے تو محض مردوں ہی کی قدر وقیمت کو اونچا اٹھادینا اور عورتوں کی حیثیت کو نظر انداز کردینا کسی طرح عقلمندی نہیں ہوسکتی ـ مگر افسوس کے ساتھ  کہنا پڑتا ہے کہ  ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ  سوتیلاپن جیسا سلوک دیکھنے کو ملتا ہے ـ ہم نے ایک عورت کو اُن تمام حقوق سے محروم رکھا جو اسلام نے اُن کو دیے  ہیں ـ اسلام نے تعلیم حاصل کرنا مرد اور عورت دونوں کے لئے فرض قرار دیا اور وہ بھی پیدائیش سے لے کر موت تک ـ اگرچہ اسلام نے عورت کے حصولِ علم کے لئے کچھ حدود مقرّر کی ہیں

لیکن اُن میں بھی ہم ہی  رکاوٹ بن رہے ہیں ـ کبھی کبھار والدین بھی اپنی بیٹی کے حقوق سلب کرتے ہیں،  اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھہ ایک جیسا سلوک روا نہیں رکھتے   جس کے نتیجے میں ایک بیٹی احساسِ  کمتری کا شکار ہوکر خود کشی کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے ـ ہم جس عورت سے قربانی کی بات کرتے ہیں،  کیا ہم نے کبھی اس بات پر سوچا کہ وہ تو ہمارے لئے اپنے ماں باپ کو چھوڑ کے آتی ہے، کیا ہم  چھوڑ سکتے ہیں اپنے ماں باپ ، اپنے طور طریقے؟ ہرگز نہیں ـ  جس طرح ایک ماں اپنے بچّوں کی صحت اور زندگی کے لئے ہر وقت پریشان اور دُعا گو رہتی ہے بالکل ویسے ہی ایک بیوی بھی اپنے شوہر کی زندگی اور صحت کے لئے دُعاگو رہتی ہے ـ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری بہوئیں ہماری ساسوں سے کیوں نالاں رہتی ہیں ؟

کیونکہ ساسیں اگر اپنی بہوؤں کو گہنے دے دیتی ہیں گھر کی چابیاں دے دیتی ہیں لیکن شاباشی نہیں دیتی ـ کاش کہ اُنہیں یہ فن بھی  آتا، تو بہوئیں اپنے ساسوں کی خدمت ساری عمر کرنے کو تیار ہوجاتی ـ اگر  ہم خواتین کو اپنے حقوق دینے کو تیار نہیں ہیں تو یقین مانو ہم بھی دورِ جاہلیت کی طرح اُن کے زندہ درگور ہونے کا  سبب بن رہے ہیں ـ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہےـ واذالموؤدة سئلت بای ذنبٍ قتلت ـ یعنی اور جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکیوں سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس جرم میں قتل کی گئی ہیں ـ اس آیت کی تفسیر میں مفسّرین یوں رقمطراظ ہیں ـ وکانت العرب اذا ولدت لاحدھم بنت دفنھا حیة مخافة العار والحاجة الاملاق وخشیة الاسترقاق ـ فتح البیان ـ یعنی عربوں میں جب کسی کے یہاں لڑکی پیدا ہوتی تھی تو اسے زندہ دفن کردیا کرتے تھے اس کی وجہ شرم اور عار تھی یا ضرورت،  محتاجی اور ذلّت کا خوف ہوا کرتا تھاـ ،

صاحبِ تفسیر خازن لکھتے ہیں ـ کانت العرب تفعل ذالک فی الجاھلیة تدفن البنات حیة مخافة العار والحاجة ـ یعنی عرب عہد جاہلیت میں لڑکیوں کو اس لئے زندہ دفن کردیا کرتے تھے کہ انہیں عار اور ضرورت کا ڈر پیدا ہوجاتا  تھا ـ صاحبِ مدارک لکھتے ہیں ـ کانت العرب تئد البنات خشیة الاملاق و خوف الاسترقاق ـ یعنی محتاجی اور ذلّت کے خوف سے عرب لڑکیوں کو زندہ درگور کردیا کرتے تھے ـ اگرآج کل کے دورِ عالمیت میں  ہمارا بھی یہی رویہ رہا جو دورِ جاہلیت میں تھا تو ہمیں یہ سننے میں بھی کوئی افسوس نہیں ہونا چاہئے کہ شوہر، ساس اور نندوں کے دن رات طعنے سن کر کوئی بہو آگ سے خود کشی کرلیتی ہے، جو خود کشی نہیں بلکہ ایک قتل کی طرح ہوگا ،

چہ جائیکہ قانون کی  زبان میں خواہ اسے قتل نہ کہتے ہوں،  ویسے بھی اس طرح کے کیسوں میں مشکل سے ہی دس پندرہ کیس خودکشی کے ہوتے ہیں ورنہ یہ صریحاً  قتل کی واردات ہوتی ہے ـ پہلے زیادہ تر ایسے کیسوں میں پولیس خودکشی کا کیس درج کرلیتی تھی لیکن اب رائے عامہ کی بیداری کی وجہ سے ان کیسوں کو قتل کے دفعات کے تحت کیا جانے لگا ہے ـ یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ اب تک جل مرنے یا خوکشی کے جتنے مقدمے زیرِ سماعت آئے ہیں ان حادثوں میں اسّی فیصد ان ساسوں کا اہم رول رہا ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ صرف یہی عورت ان ہنگاموں کی ذمہ دار ہے،  اس کی وجہ سے لڑکیاں اپنے ارمانوں کو سینے میں دبائے زندہ درگور ہوجاتی ہیں۔

ـ یہ امر مسلّم ہے کہ مرد نہیں تو عورت نہیں اور عورت نہیں تو مرد نہیں،  یہ قدرت کا قانون ہے ہر گھر میں کم و بیش عورت ضرور ہوتی ہے ایک لڑکی بیٹی سے بہو اور بہو سے ساس بنتی ہے،  ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ اپنے تجربات کی روشنی میں دوسروں کے لئے آسانیاں فراہم کرتی ـ کوئی لڑکی سہاگ کے جوڑے کے بعد کن کن دشوار مرحلوں سے گزرتی ہے ان سے وہ اچھی طرح واقف ہوتی ہے ـ  اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی بہو کی حوصلہ افزائی کرے اور اس کی مجبوری کو اپنے ماضی کے آئینے میں دیکھےلیکن ایسا نہیں ہوتا ہے ـ   خواتین کی قدر کیجئے ،انھیں   حقوق دیجئے، ان سے عزّت و اکرام کے ساتھ  پیش آئیے، اسلامی تعلیمات کی طرف خود بھی اور ان کو بھی راغب کیجئےـ ہم اس چیز سے بخوبی آشنا ہیں کہ یہ سب گفتن آساں کردن دشوار کی مانند ہے اور ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ کسی کے حقوق سلب کرنے کی کتنی بڑی سزا ہے ـ اللہ ہم سب کو اپنے خواتین کے حقوق کا محافظ و پاسبان بننے کی توفیق عطا فرمائیں ـ آمین

بے وطن لوگ: برما کے روھنگیا مسلمانوں کی داستانِ الم

بے وطن لوگ: برما کے روھنگیا مسلمانوں کی داستانِ الم

جیسا کہ آپ سبھی لوگوں کو معلوم ہے کہ آجکل میانمار کے بارے میں بہت ساری باتیں ہورہی ہیں کیونکہ میانمار میں رہنے والے مسلمانوں کے لئے وہاں کی سرِ زمین تنگ کی جارہی ہے ۔ تو اسی سلسلے میں شاید میرے اِس مضمون سے آپ کو میانمار کی اصل اور صحیح صورتحال کا بخوبی اندازہ ہوسکے گا ۔
پندرہ لاکھ کی آبادی پر مشتمل روھنگیا کے مسلمانوں کو اگر آج دُنیا کی سب سے مظلوم اقلیت کے طور پر دیکھا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ دُنیا کے بیشتر ممالک کو یہ معلوم ہی نہیں کہ برما کے مسلمان کون ہیں اور اُنھیں کیوں ظُلم و بر بریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ برما کی حکومت روھنگیا کے مسلمانوں کو اپنے ملک کے شہری تسلیم کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کرتی ہے کہ اُن لوگوں کے آبا و اجداد برطانوی دورِ حکومت سے پہلے یہاں آباد نہیں تھے ۔ جبکہ روھنگیا کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اُن کے آبا و اجداد یہاں صدیوں سے آباد ہیں ۔ پچاس ہزار مربع کلو میٹر پر مشتمل روھنگیا نسل کے مسلمانوں کا اکثریتی علاقہ اراکان ، برما اور بنگلہ دیش کی سرحدوں پر واقع ہے۔

آٹھویں صدی عیسوئی میں خلیفئہ ہارون رشید کے دور میں کچھ مسلمان تاجر خلیجئہ بنگال کے کنارے اِس علاقے میں پہنچے تو اُنھوں نے تجارت کے ساتھ ساتھ یہاں دینِ حق کا پیغام بھی پھیلانا شروع کیا اور اسلام کی فطری تعلیمات سے متاثر ہوکر وہاں کی کثیر آبادی نے اسلام قبول کر لیا1430ء میں اراکان کے بادشاہ نے بھی اسلام قبول کر لیا اور سلطان سلیمان شاہ نے یہاں ایک اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھی – اس ملک پر ساڑھے تین صدیوں تک مسلمانوں کی حکومت رہی ۔ یہاں بےشمار مساجد ، مدارس ، اور جامعات قائم کی گیئں ۔ اراکان کی کرنسی کو لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کے مقدس الفاظ سے سجایا گیا تھا ۔
انیسویں صدی عیسوئی تک روھنگیا کے مسلمان سکون سے زندگی گزارتے رہے لیکن جب1826ء میں برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس خطے پر اپنا قبضہ جمایا تو انھوں نے کے تحت مقامی راخینے نسل کے بدھوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا – 1937ء میں برما نے انگریزوں سے آزادی حاصل کرلی ۔ 28 مارچ 1942ء کو یہاں پہلا فساد رونما ہوا اور مسلمانوں کے قتلِ عام کا آغاز کر دیا گیا ۔ چالیس دن کے اندر تقریبًا ڈیڑھ لاکھ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور نہتے مسلمان بنگال میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے – 1947ءمیں جب برطانیہ بر صغیر سے رخصت ہوا تو برمی مسلمانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا اور اِس سال پھر مسلم کش فسادات دہرائے گئے ۔ 1949ء سے اب تک مسلمانوں کے خلاف چودہ فوجی آپریشن ہوچکے ہیں جن میں مارچ 1978ء کا آپریشن سب سے بد ترین تھا ۔ اِس آپریشن میں مسلمانوں کی درجنوں بستیاں جلا کر خاکستر کر دی گئی ، تقریبًا بیس ہزار مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا ، لاتعداد مسلمانوں کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا ، مساجد اور مدارس کو تباہ کر دیا گیا ، اور مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید کے ساتھ بے حرمتی کر دی گئی ۔ اس آپریشن کے نتیجے میں تین لاکھ روھنگیا کے مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ۔ ہزاروں برمی مسلمانوں نے پاکستان ، ملائشیا اور سعودی عرب میں پناہ لی ۔ جبکہ مسلمانوں کے خالی کردہ علاقوں پر راخینے بدھ قابض ہوتے چلے گئے ، مسلمان علاقے کا نام بھی اراکان سے بدل کر راخین کر دیا گیا ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ یہاں لوڈ اسپیکر سے آذان ممنوع قرار دے دی گئی ہے ، مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے زبردستی روکا جارہا ہے ، قربانی پر پابندی لگا دی گئی ہے ، مسلمان سرکاری اجازت کے بغیر نہ شادی کر سکتے ہیں اور نہ بچے پیدا کرسکتے ہیں ، اور انھیں ایک شہر سے دوسرے شہر تک جانے کے لئے بھی اجازت نامے کی ضرورت ہوتی ہے ۔
1982ء میں برمی حکومت نے ایک نیا قانون پاس کیا جسکے تحت روھنگیا کے مسلمانوں کو برمی شہریت سے بھی محروم کر دیا گیا ۔ برمی حکومت چاہتی ہے کہ اراکان اپنے علاقے کو چھوڑ کر بنگلہ دیش کی سر زمین کو اپنالے جبکہ بنگلہ دیش انھیں اپنی زمین پر برداشت کرنے کو تیار ہی نہیں ۔ یوں یہ مظلوم مسلمان برمی اور بنگلہ دیشی حکومتوں کے درمیان مجبور و مقہور ہیں ۔ برما میں ہونے والے حالیہ مسلم کش فسادات جون2012ء میں شروع ہوئے جن کے نتیجے میں مزید تیس ہزار مسلمان اپنے علاقے سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوکر سرحدی دریا عبور کرکے بنگلہ دیش کی طرف آنے لگے ۔ پہلی چند کشتیوں میں سوار افراد کو تو بنگلہ دیشی کنارے پر اترنے دیا گیا لیکن جب ان کی تعداد بڑھنے لگی تو بنگلہ دیشی حکام انھیں واپس بھیجنے لگے اور یہ واپس بھیجنا انھیں موت کے منہ میں دھکیل دینے کے مترادف تھا ۔ حالیہ فسادات میں اب تک ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا جا چکا ہے ، اسّی ہزار مسلمان بے گھر ہوکر سڑکوں پر اپنی جان بچاتے بچاتے پھٹک رہے ہیں یا رنگون کے نواح میں کیمپوں میں بے یار و مدد گار پڑے ہیں جبکہ بنگلہ دیش میں بھی پہلے سے آئے ہوئے اور تازہ مہاجرین لاکھوں کی تعداد میں مخدوش کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔
آج برمی مسلمانوں کی مجموعی پندرہ لاکھ آبادی میں سے تین لاکھ بنگلہ دیش میں ، دو لاکھ پاکستان میں ، اور چوبیس ہزار ملائیشیا میں آباد ہیں ۔ برما کے صدر تھین سین نے اقوام متحدہ سے کہا کہ برما میں موجود دس لاکھ مسلمانوں کو دوسرے ملکوں میں بسایا جائے جبکہ دوسرا کوئی ملک انھیں اپنانے کے لئے تیار ہی نھیں ۔ پاکستان میں برمی مسلمانوں کی نسل کشی کی اطلاعات آئیں تو جماعت اسلامی کے سوا کسی بھی جماعت کو اس پر احتجاج کی توفیق نہیں ہوئی ۔ پاکستانی باخبر میڈیا بھی اسطرح خاموش رہا جیسے اُسے اِس کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ، معمولی معمولی باتوں پر بریکینگ نیوز دینے والوں کو نہ جانے کیوں برمی مسلمانوں کی حالت زار پر کوئی نیوز بریک کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی ۔ کوئی بھی عالمی ادارہ اس پر خبر تک دینے کو تیار نہ تھا ۔ مگر اسلامی دنیا میں مسلمانوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس قتلِ عام کے تصاویر کو پھیلانا شروع کردیا ۔ اسلامی دنیا میں مسلم عوام کے احتجاج کے بعد کچھ مسلم حکومتوں نے بھی اپنی تشویش ظاہر کی ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے ترکی نے اپنا قدم آگے بڑھایا اور ترکی کی خاتونِ اوّل محترمہ امینہ اُردگان نے سب سے پہلے برما کا دورہ کرکے مظلوم مسلمانوں کی خبر گیری اور امداد کی ۔ اقوام متحدہ کے نمائندے کا کہنا ہے کہ برما کی حکومت امدادی کارکنوں اور صحافیوں کو متاثرہ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے اور اس لئے انسانی حقوق کی اِن خلاف ورزیوں کا جائزہ لینا بے حد مشکل ہے ۔ اِن حالات میں الخدمت فائونڈیشن پاکستان نے اپنی ایک امدادی ٹیم کو بنگلہ دیش بھیجنے کا فیصلہ کیا جو رضاکاروں اور ڈاکٹروں پر مشتمل تھی ۔ اس ٹیم کی تشکیل اور انتظامات میں جہاں الخدمت فائونڈیشن کو پاکستانی عوام کی طرف سے بھر پور تعاون حاصل تھا ، وہیں اِکنا ریلیف امریکہ اور کینیڈا کے ساتھ پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسیشن بھی پوری طرح شامل تھے ۔ اِس امدادی ٹیم کا مقصد جہاں بنگلہ دیش میں موجود لاکھوں روھنگیا کے مسلمانوں کی حالتِ زار کا جائزہ لینا تھا ، وہیں اُنکی داد رسی اور امداد کرنا بھی تھا ۔ الخدمت فائونڈیشن نے بنگلہ دیش کے ایسے علاقوں میں امدادی سرگرمیاں منعقد کیں جہاں برمی مسلمان پناہ گزینوں کی آبادیاں اور کیمپ موجود ہیں ۔ برما کے مظلوم ، بے گھر اور مستحق مسلمانوں میں اشیاء خورد و نوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی تقسیم کی گئیں ۔ امدادی تقسیم کے ساتھ ساتھ میڈیکل کیمپ بھی منعقد کئے گئے ۔ الخدمت فائونڈیشن کی ٹیم نے بنگلہ دیش کے سرحدی علاقے کا بھی دورہ کیا جہاں برما کی وہ سرحدیں بنگلہ دیش سے ملتی ہیں جہاں سے مظلوم برمی مسلمان مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔ برمی مسلمانوں کے زیادہ تر کیمپ بھی اسی علاقے میں موجود ہیں ۔ الخدمت فائونڈیشن کا مقصد ہے کہ نہ صرف ان مظلوم مسلمانوں کی امداد کا سلسلہ جاری رہے بلکہ عالمی طاقتیں اس انسانی المیہ کا حل نکالنے کی بھر پور کوشش کریں ۔ جب انڈونیشیا میں ایسٹ تیمور کا مسلہ حل ہوسکتا ہے،سوڈان میں دارفور کا مسلہ حل کیا جاسکتا ہے تو برما میں اراکان کا مسلہ کیوں حل نہیں ہو سکتا ؟ کیا صرف اس لئے کہ یہ مظلوم مسلمان ہیں ؟ ۔۔۔۔